ابنا: یمنی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جنوبی یمن کے صوبے شبوہ میں پولس کے ہیڈ کوارٹر اور ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 65 سکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوگئے ۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائي جاتی ہے ۔ یمنی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ سے موسوم گروہ نے جمعے کے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ان ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے یمنی فوج اور پولس کے متعدد افراد کو اغوا بھی کرلیا ۔ اس کاروائی میں القاعدہ کے بھی آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ۔ رپورٹوں کے مطابق جمعے کو سب سے تباہ کن حملہ ، ایک بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے تیل کی تنصیبات والے علاقے عزان میں قائم ، فوجی اڈے ميں کیا گيا۔ عزان کا علاقہ حالیہ مہینوں میں ہمیشہ مسلح گروہوں اور یمنی فورسیز کے مابین جنگ کا میدان اور اسی طرح سے انتہا پسندوں کے خلاف امریکی ڈرون حملوں کی آماجگاہ بھی رہا ہے ۔ پندرہ مہینے قبل ایک فوجی پریڈ کے دوران ہونے والے ایک خونریز دھماکے کے بعد ، کہ جس ميں ایک سو کے قریب یمنی فوجی ہلاک ہوگئےتھے ، جمعے کی اس دہشت گردانہ حملے کو یمنی فوج کے خلاف سب سے خوفناک حملہ سمجھا رہا ہے ۔ یہ حملے جنوبی یمن میں ایسی حالت میں انجام پائے ہیں کہ اس ملک کے سیاسی گروہ چھ مہینوں کے بعد قومی مذاکرات کانفرنس سے موسوم مذاکرات ميں اتفاق رائے پر پہنچنے والے تھے اور یمن کے ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کے عدالتی تحفظ کی منسوخی کے مطالبات میں بھی شدت آگئی تھی ۔ ان مسائل کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ جب بھی یمن کے سیاسی گروہوں کے درمیان بحران کے سیا سی حل کا امکان بڑھتا ہے تو اس ملک ميں سکورٹی کے واقعات میں بھی شدت آجاتی ہے ۔ یمنی ذرائع نے پیر کے روز قومی مذاکرات کانفرنس ميں وفاقی حکومت کی تشکیل کے لئے جنوبی علاقے کے حساس مسئلے کے بارے میں گروہوں کے درمیان اتفاق رائے کی خبر دی تھی ۔ جنوبی یمن کامسئلہ ، جو 1990 سے قبل ایک مستقل اور آزاد ملک تھا، قومی مذاکرات کانفرنس کا اصلی مسئلہ شمار ہوتا ہے اور بہت سے یمنی باشندوں کا خیال ہے کہ جنوب کے مسئلے کا حل ، یمن میں جمہوریت کی منتقلی کی اہم کنجی ہے ۔ جنوبی یمن کے لوگوں کا ماننا ہے کہ 1990 میں یمن کے شمالی وجنوبی علاقوں کو ایک کرنے کے بعد اقتدار ہمیشہ شمالیوں کے ہاتھ میں رہا ہے اور جنوبیوں کا حق ضائع ہوا ہے ۔فروری 2012 میں اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے ہونے والے سمجھوتے کی بنیاد پر ، یمن کے سابق ڈکٹیٹر علی عبد اللہ صالح کو برطرف کیا گیا ، جبکہ اس قومی کانفرنس کا مقصد یمن میں اختلافات کے حل خاص طور پر نئے بنیادی آئین کی تدوین اور فروری 2014 میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے حالات سازگار بنانا ہے ۔ یمن میں اقتدار کی منتقلی کے مذاکرات کا انعقاد ایک اہم ترین وعدہ تھا کہ جسے یمن کے صدر منصور ھادی نے اقتدار کی دو سالہ منتقلی کے دور کے آغاز میں عوام کو دیا تھا لیکن اس وعدے پر عملدر آمد میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگ گيا اور آخر کار منصور ھادی نے اپنے اقتدار کے دوسرے سال کے آغاز میں قومی مذاکرات کا آغاز کر دیا ۔
.......
/169